پچیس جولایی کو چھپنے والی انگریزی اور فارسی کی خبروں کے مطابق ایران میں ویکی پیڈیا پر پابندی لگایی گیی اوراس سایٹ کو کھولا نہیں جا سکتا تھا۔ بغیر کسی وجہ کے اورکویی معلومات ديے بغیر اس ویب سایٹ کو روک دیا گیا۔

انتیس جولایی کی صبح کی گیی میری اپنی تفتیش کے مطابق، ویکی پیڈیا ویب سایٹ ایران میں میسر تھی، لیکن جس فارسی خبروں کی ویب سایٹ نے یہ خبر دی تھی وہ بند کی جا چکی تھی۔ اس ویب ساءیٹ پر پابندي لگنے کی وجہ اس ویب سایٹ کا حکو مت کے خلاف کردار ادا کرنا اور اس کاجہموری تحریک کی حمایت میں کلیدی کردار ادا کرنا تھا۔ پابندی لگانے کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ اس ویب ساءیٹ نے پہلی دفعہ انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی کی تصویریں شایع کی تھیں۔اس وجہ سے ایران کی حکومت نےبہت سے موقوں پر اس ویب ساءیٹ کے ساتھ فیس بک اورٹویٹرکوقابل الزام ٹھرایااور ایران میں الیکشن کے بعد میں ہونے والے احتجاجی جلوسوں کا زمہ دار گردانا۔

یہ مثال اس بات کاثبوت ہے جو ایران میں کافی سالوں تک چھایی رہی کہ کچھ ویب سایٹس پر ملک میں مستقل پابندی لگایی گیی اور کچھ دوسري ویب ساءیٹس کو مختلف وقتوں میں مخصوص وجوہات کی بنا بند کیا گیا۔

مزیدبراں ایران میں حکومتی عہددران نے بہت سی حکومتی پالسیوں پر پورا اترنے والی انٹرنیٹ مہیا کرنے والی کمپنیوں کی وجہ سے مختلف طریقوں سے انٹرنیٹ پرپابندیاں لگاءیں ۔ اس کے نتیجے میں ویب ساءیٹس اگر ایک خطے میں روکی گيي تو دوسرے خطے میں مہیا کی گیی۔ اس مسلے کے حل کے لیے حکومت ایران نے کءی سال کام کر کے ایک سافٹ ویرکمپنی سے مل کر ایک ایسا مختصرسا سافٹ ویر بنایا ، جس کا مقصد ایک ایسا فلٹرنگ کا سسٹم بناناتھا جومختلف قسم کے بایی پاس ٹولز سے نمٹ سکے۔

תגובות

תגובות

هه‌روه‌ها ئه‌م پۆسته‌ به‌رده‌سته‌ له‌: enEnglish heעברית esEspañol ruРусский trTürkçe frFrançais mgMalagasy faفارسی urUrdu

نوسراوه‌ له‌لایه‌ن Tal Pavel, Ph.D

Tal Pavel, Ph.D., Middle Eastern Studies. Lecturer, commentator, researcher. Expert on technology, Internet and Cyber in the Middle East and the Islamic world. Owner of the Middleeasternet.com website.